(34) سامری درحقیقت منافق تھا اور بظاہر اسلام قبول کرنے سے پہلے گائے کی پوجا کرتا تھا، اس لیے جو نہی اسے موقع ملا اپنے کفر کی طرف لوٹ گیا، اور لوگوں کو بچھڑے کی عبادت کی دعوت دینے لگا، موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور لوگوں کو بچھڑے کی عبادت کی طرف کیوں بلایا؟ تو جواب دیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ لی تھی جو تمہاری قوم نے نہیں دیکھی تھی، جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سامری کو فتنہ میں ڈالنا چاہا، اس لیے اس نے جبریل کو ایک گھوڑے پر سوار دیکھا اور دیکھا کہ جہاں گھوڑے کی ٹاپ پڑی اس جگہ پودے اگ گئے، سامری دیکھ کر سمجھ گیا کہ اگر جبریل کے گھوڑے کے کھر کی مٹی کسی جماد پر ڈال دی جائے گی تو اس میں زندگی آجائے گی، اسی لیے اس نے اس مٹی کو محفوظ کرلیا اور جب بچھڑا بنایا تو اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی جس کے اثر سے اس سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔