(1) " القارعۃ" قیامت کا ایک نام ہیغ اور اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں کو نہایت سختی کے ساتھ جنجھوڑ دے گی اور اللہ کے دشمنوں کو شدید عذاب میں مبتلا کر دے گی۔ آسمان پھٹ جائے گا آفتاب اور ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے، زمین میں بھونچال آجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔
اسی قیامت، بعث بعد الموت اور عقیدہ جزا و سزا کو اس سورت میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ لوگ اس دن کی کامیابی کے لئے کوشش کریں اور پہلی اور دوسری آیت میں " استفہام" سے مقصود قیامت کے دن کی ہولناکی کو بیان کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا: قیامت کا دن جو اپنی ہولناکیوں اور دہشتوں کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کی نہایت سختی کے ساتھ جھنجھوڑ دینے والا ہوگا، آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیسا دن ہوگا ؟!
اس دن لوگ کیڑوں اور ٹڈیوں کی مانند پریشان اور مضطرب ہوں گے۔ " فراش" ان کیڑوں کو کہتے ہیں جو رات کے وقت شمع اور چراغ کی روشنی کے گرد اڑتے اور گرتے رہتے ہیں، اسی طرح قیامت کے دن لوگ پریشان اور مضطرب ہوں گے، شدت از دحام اور پریشانی کے سبب ایک دوسرے پر گریں گے، جیسا کہ وہ اپنی عقل کھو چکے ہوں، اور ان پر جنونی کیفیت طاری ہو اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر دھنی ہوئی روئی کی مانند فضا میں بکھر جائیں گے۔
اس دن جب لوگ قبروں سے نکل کر میدان محشر میں جمع ہوں گے اور ان کے نامہ اعمال رب العالمین کے سامنے پیش ہوں گے تو جس کی نیکیوں کا پلڑا جھک جائے گا وہ جہنم سے نجات پا جائے گا اور اسے جنت میں دائمی خوشگوار زندگی مل جائے گی اور جس کی نیکیاں کم ہوجائیں گی اور گناہ زیادہ ہوجائیں گے یا اس کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی جیسے کافر و مشرک، اس کا ٹھکانا جہنم کی کھائی ہوگی جس میں وہ سب کے بل ڈال دیا جائے گا۔
آیات (01/11) میں جہنم کی ہولناکیوں اور اس کے عذاب کی سختی کا احساس دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ کو کیا معلوم کو وہ " ہاویۃ" کیا ہے؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا کہ وہ تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہے، جس کی گری دنیا کی آگ کی گرمی سے ستر گنا زیادہ ہوگی، جیسا کہ صحیحین میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگو ! تمہاری یہ آگ جسے ابن آدم سلگاتا ہے، جہنم کی آگ کے ستر حصے کا ایک حصہ گرم ہے۔ اللھم انا نستجیربک من نارھنم