فهرس الكتاب

الصفحة 1292 من 6343

اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں۔۔۔ فرماتا ہے {إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ} " اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی" مثلًا فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیابی {تَسُؤْهُمْ} " تو ان کو بری لگتی ہے۔" یعنی ان کو غمزدہ کردیتی ہے {وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ } " اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبت" مثلًا آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی {يَقُولُوا} " تو کہتے ہیں۔" آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں: {قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ } ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار ہونے سے بچ گئے {وَيَتَوَلَّوا وَّهُمْ فَرِحُونَ} " اور پھر کر جائیں وہ خوشیاں کرتے ہوئے" یعنی وہ آپ کی مصیبت اور آپ کے ساتھ اس میں عدم مشارکت پر خوش ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت