پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے ،چنانچہ فرمایا: {اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ} یعنی اگر وہ تمہیں پائیں اور تمہیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے {کُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَاءً} تو وہ تمہارے کھلے دشمن ہوجائیں گے۔ {وَّیَبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ } اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمہاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے ۔ { وَاَلْسِنَتَہُمْ بِالسُّوْءِ} اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہوگی، یعنی گالی وغیرہ۔ {وَوَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ} "اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے ۔"اور یہی وہ غرض وغایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔