فهرس الكتاب

الصفحة 3415 من 6343

اس عظیم کتاب کی صداقت پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ اسے وہ نبی امین لے آیا ہے جس کی صداقت اور امانت کا اس کی پوری قوم اعتراف کرتی ہے، جس کے پورے معمولات اور تمام احوال کو اس کی قوم اچھی طرح جانتی ہے وہ اپنے ہاتھ سے لکھ نہیں سکتا بلکہ وہ تو لکھا ہوا پڑھ نہیں سکتا۔ اس صورتحال میں ایک کتاب پیش کرنا سب سے بڑی اور قطعی دلیل ہے، جس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب اور قابل ستائش ہے، بنا بریں فرمایا: { وَمَا كُنتَ تَتْلُو } یعنی آپ پڑھ نہیں سکتے تھے { مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذًا } " اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے، اگر ایسا ہوتا۔" یعنی اگر آپ کا یہ حال ہوتا کہ آپ لکھ پڑھ سکتے تھے { لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ } " تو اہل باطل ضرور شک کرتے" اور کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام چیزیں پچھلی کتابوں سے پڑھی ہیں یا وہاں سے نقل کی ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے قلب پر ایک جلیل القدر کتاب نازل فرمائی۔ اس جیسی کتاب لانے یا اس جیسی ایک سورت ہی بنا لانے کے لیے بڑے بڑے فصیح و بلیغ اور جھگڑالو دشمنوں کو مقابلے کی دعوت دی گئی مگر وہ بالکل عاجز آگئے بلکہ اس کی فصاحت و بلاغت کو دیکھ کر انہوں نے اس کا مقابلہ کرنے کا خیال بھی دل سے نکال دیا کیونکہ کسی بشر کا کلام اس کا مقابلہ کر سکتا ہے نہ اس کی برابری، اس لیے فرمایا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت