فهرس الكتاب

الصفحة 3327 من 6343

مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے اور بہت بہترتھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللّٰـهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَا} " کہہ دیجئے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔" یعنی تو رات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل {أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ} " میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو" اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کرلائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لئے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت