فهرس الكتاب

الصفحة 1695 من 6343

جب معاملہ اپنی انتہا اور شدت کو پہنچ گیا، تو یوسف علیہ السلام نرم پڑگئے اور انہوں نے ان کو اپنا تعارف کروایا اور ان پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا: {هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ} " کیا تمہیں معلوم ہے، تم نے یوسف علیہ السلام اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟" رہے یوسف علیہ السلام تو ان کے ساتھ ان کا سلوک ظاہر ہے اور رہا ان کا بھائی بنیامین تو شاید۔۔۔۔۔۔ واللہ۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد بھائیوں کا یہ قول ہے { قَالُوا إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ} (یوسف:12؍77) یا اس سے مراد وہ حادثہ ہے جس کی بنا پر باپ اور بیٹے میں جدائی واقع ہوئی اور اس جدائی کے اصل سبب اور موجب وہی تھے۔ { إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ} " جب تم ناسمجھ تھے" یہ ان کی جہالت پر ایک قسم کا اعتزار ہے یا ان پر زجروتوبیخ ہے کیونکہ انہوں نے جاہلوں کا سا کام کیا، حالانکہ یہ کام ان کے شایان شان نہیں تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت