{وَاَہْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ} یعنی میں اس کی طرف تیری رہن+مائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں { فَتَخْشَىٰ } پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہوجائے تو اللہ سے ڈرجائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دعوت دی تھی، فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔