فهرس الكتاب

الصفحة 4253 من 6343

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کی تکذیب کرنے والوں کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین پر چل پھر کر دیکھیں اور اہل علم سے سوال کریں۔ {فَيَنظُرُوا } " پس وہ دیکھیں" غفلت اور بے پروائی کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ فکر و استدلال کی نظر سے دیکھیں۔ {كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ} " کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟" یعنی قوم عاد و شمود جیسی گزشتہ قوموں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے قوت میں زیادہ، مال میں کثرت اور زمین میں آثار، یعنی مضبوط محلات، خوب صورت باغات اور بے شمار کھیتیاں چھوڑنے کے لحاظ سے بڑے تھے۔ {فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ } " تو ان کی کمائی نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔" جب اللہ تعالیٰ کا حکم آ پہنچا تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ وہ اپنے مالوں کا فدیہ دے سکے اور نہ وہ اپنے قلعوں کے ذریعے ہی سے بچ سکے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت