فهرس الكتاب

الصفحة 757 من 6343

گویا انہیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا: {وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ} " اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔" یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ درآں حالیہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت