پھر سلیمان علیہ السلام نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: { نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا } " اس ( ملکہ) کے لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔" یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کرکے اسے بدل ڈالو۔ { نَنظُرْ } ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ { أَتَهْتَدِي } کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟