فهرس الكتاب

الصفحة 3359 من 6343

جب قارون کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہوگئی اور دنیا نے اس کو بے انتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آلیا۔ {فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ } " پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا" سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر اور مال و دولت سمیت، جس نے سے فریب میں مبتال کر رکھا تھا، انتہائی پستیوں میں اتار دیا { فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِئَةٍ} " اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔'' یعنی کوئی جماعت، گروہ، خدام اور افواج نہ تھیں { يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللّٰـهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنتَصِرِينَ} " اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔" یعنی عذاب الٰہی آپہنچا کسی نے اس کی مدد کی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کرسکا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت