فهرس الكتاب

الصفحة 4028 من 6343

جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم {خَصْمَانِ}

''دو جھگڑا کرنے والے ہیں'' اس لیے ڈریے مت {بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ} ''ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے'' ظلم کرتے ہوئے {فَاحْكُم بَيْنَنَا بِالْحَقِّ} لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجئے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں {لَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَىٰ سَوَاءِ الصِّرَاطِ} ''اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہنمائی کیجئے۔''

اس پورے واقعے سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق ہے۔ جب یہ معاملہ ہوا اور وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام نے ان کے وعظ و نصیحت سے تنگی محسوس کی نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت