فهرس الكتاب

الصفحة 2720 من 6343

جب نوح علیہ اسلام نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انہیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو {قَالَ رَبِّ انصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ} ''انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب ! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔'' حضرت نوح علیہ اسلام نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کہا: {قَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا } (نوح: 71؍26،27) ''اے میرے رب ! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہوگی۔'' اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ} (الصفت: 37؍75) ''نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت