موسیٰ علیہ السلام نے اس خیر خواہ انسان کی خیر خواہی پر عمل کیا۔ { فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ} " پس اس بات سے ڈرتے ہوئے )کہ کہیں ان کو قتل نہ کردیا جائے( اس شہر سے نکل پڑے" اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: {قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} "میرے رب ! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔" کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کرچکے ہیں جس کا انہوں نے بغیر کسی قصد و ارادے کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔