فهرس الكتاب

الصفحة 1689 من 6343

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے اور انہیں ان واقعات سے آگاہ کیا تو یعقوب علیہ السلام بہت غم زدہ ہوئے اور ان کی اداسی کئی گنا بڑھ گئی۔ پہلے کی طرح اس واقعہ میں بھی حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کو متہم قرار دیا {قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ} " (اور) کہا بلکہ بنا لی ہے تمہارے جی نے ایک بات، پس اب صبر ہی بہتر ہے" یعنی میں اس معاملے میں صبر جمیل کی پناہ لیتا ہوں جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناراضی ہے نہ بے صبری کا مظاہرہ اور نہ مخلوق کے پاس شکوہ۔ اور جب انہوں نے دیکھا کہ غم و کرب بہت شدید ہوگیا تو انہوں نے سکون کا سہارا لینے کے لئے کہا: {عَسَى اللَّـهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا} " شاید اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو" یعنی یوسف علیہ السلام، بنیامین اور سب سے بڑا بھائی، جو مصر میں رہ پڑا تھا۔ { إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ} " بے شک وہ جاننے والا ہے" جو میرے حال کو جانتا ہے، جو یہ بھی جانتا ہے کہ میں اس کی طرف سے کشادگی اور نوازش کا محتاج اور اس کے احسان کا ضرورت مند ہوں۔ {الْحَكِيمُ} "وہ دانا ہے"۔ جس نے اپنی حکمت ربانی کے تقاضے کے مطابق ہر چیز کا اندازہ اور اس کا منتہا مقرر کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت