فهرس الكتاب

الصفحة 1449 من 6343

اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے۔۔۔۔۔ ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے۔۔۔۔۔ ان کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: {أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ } " کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمہارے پاس آیا" یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے {أَسِحْرٌ هَـٰذَا} " کیا یہ جادو ہے؟" یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہوجاتا ہے کہ یہ حق ہے {وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ} " اور جادو گر فلاح نہیں پاتے" یعنی جادو گر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لئے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انہیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام تھے جنہوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفر یاب ہوئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت