جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جارہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو اہل ایمان سے کہیں گے: {انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ} یعنی ٹھہرو !تاکہ ہم تمہاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، تو {قِیْلَ} ان سے کہا جائے گا: {ارْجِعُوْا وَرَاءَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا} ''پیچھے لوٹ جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔'' یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہوگا بلکہ یہ بالکل محال ہوگا۔ {فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ} ''تب حائل کردی جائے گی ان کے درمیان۔ '' یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان {بِسُوْرٍ} ناقابل عبور دیوار اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی۔ {لَّہٗ بَابٌ بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ} ''جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔'' اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہوگا۔ {وَظَاہِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ} ''اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔'' اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہوگا۔