فهرس الكتاب

الصفحة 5143 من 6343

جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جارہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو اہل ایمان سے کہیں گے: {انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ} یعنی ٹھہرو !تاکہ ہم تمہاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، تو {قِیْلَ} ان سے کہا جائے گا: {ارْجِعُوْا وَرَاءَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا} ''پیچھے لوٹ جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔'' یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہوگا بلکہ یہ بالکل محال ہوگا۔ {فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ} ''تب حائل کردی جائے گی ان کے درمیان۔ '' یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان {بِسُوْرٍ} ناقابل عبور دیوار اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی۔ {لَّہٗ بَابٌ بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ} ''جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔'' اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہوگا۔ {وَظَاہِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ} ''اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔'' اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت