یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر "بے صبرے" کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: {إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا } پس اگر کبھی اس پر فقر یاکسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال ومتاع، گھروالوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے ، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر راضی ہوتا ہے۔