فهرس الكتاب

الصفحة 2595 من 6343

مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر رہا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا { وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ } یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہوگئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ { كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ } (الروم: 30 ؍32) " ہر ایک گروہ ان باتوں پر جو ان کے پاس ہیں خوش ہیں" اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے۔۔۔اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہوگی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آجائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لئے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لئے فرمایا: { كُلٌّ } تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ { إِلَيْنَا رَاجِعُونَ } ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت