{فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ} یعنی لوگوں کو وعظ ونصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور انکو خوشخبری دیجئے ، کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں ۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کرکے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے ۔ پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کردی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے: { وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ } ( ق:50؍45) " اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔"