فهرس الكتاب

الصفحة 4861 من 6343

جو لوگ فرشتوں اور دیگر ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ یہ ہستیاں قیامت کے روز ان کی شفاعت کریں گی اللہ ان پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے: {وَکَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ} یعنی آسمانوں میں کتنے ہی اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم فرشتے ہیں { لَا تُغْـنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَـیْــــًٔا} ''جن کی شفاعت کچھ کام نہ آئے گی'' یعنی جو کوئی اس شفاعت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے امید وابستہ کرتا ہے یہ شفاعت اس کے کسی کام نہیں آئے گی: {اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَاءُ وَیَرْضٰی} ''مگر بعدازاں کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور پسند کرے۔'' شفاعت کے لیے دو شرائط کا مجتمع ہونا ضروری ہے:

1۔ شفاعت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی اجازت کا ہونا۔

2۔ جس کی شفاعت کی جارہی ہو اس کے حق میں اللہ کی رضامندی کا ہونا۔

یہ امر متحقق ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اللہ کی رضا کے لیے اور صاحب شریعت کے طریقے کے موافق ہو چنانچہ مشرکین شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے بہرہ مند نہیں ہوسکیں گے کیونکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر سب سے رحیم ہستی کی رحمت کے دروازے بند کرلیے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت