فهرس الكتاب

الصفحة 3592 من 6343

رسول اللہ کی ازواج مطہرات نے جمع ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جاسکتا تھا مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی ہی رہیں۔ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلا (زوجہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملے کو آسان اور آپ کی زواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔ فرمایا: { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا } " اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو۔" یعنی اگر دنیا کے سوا تمہارا کوئی مطلب نہیں اور تم دنیا کی زندگی پر راضی اور اس کے فقدان پر ناراض ہو اگر تمہارا یہی حال ہے تو مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔ { فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ } " تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں۔" یعنی میرے پاس جو بھی سروسامان ہے، وہ تمہیں عطا کردوں { وَأُسَرِّحْكُنَّ } اور تمہیں الگ کردوں { سَرَاحًا جَمِيلًا } یعنی کسی ناراضی اور سب و شتم کے بغیر، بلکہ خوش دلی اور انشراح صدر کے ساتھ، اس سے قبل کہ حالات نامناسب سطح تک پہنچ جائیں تمہیں آزاد کردوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت