فهرس الكتاب

الصفحة 1656 من 6343

جب قاصد بادشاہ اور لوگوں کے پاس واپس پہنچا اور انہیں یوسف علیہ السلام کی تعبیر کے بارے میں آگاہ کیا تو انہیں تعبیر سن کر تعجب ہوا اور بے حد خوش ہوئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَقَالَ الْمَلِكُ } " بادشاہ نے (وہاں موجود لوگوں سے کہا) کہا" {ائْتُونِي بِهِ } " اسے میرے پاس لاؤ۔" یعنی یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے نکال کر میرے سامنے حاضر کرو۔ {فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ } ''پس جب بادشاہ کا ایلچی جناب یوسف علیہ السلام کے پاس آیا" اور اسے بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لئے کہا، تو انہوں نے اس وقت تک قید خانے سے باہر آنے سے انکار کردیا جب تک کہ ان کی برأت مکمل طور پر لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوجاتی۔ یہ چیز ان کے صبر، عقل اور اصابت پر دلالت کرتی ہے۔ {قَالَ } اس وقت انہوں نے بادشاہ کے ایلچی سے کہا: { ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ } " بادشاہ کے پاس واپس جا" {فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ } " بادشاہ سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔" کیونکہ ان کا معاملہ بالکل ظاہر اور واضح ہے {إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ } " میرا رب تو ان کا فریب، سب جانتا ہے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت