فهرس الكتاب

الصفحة 4776 من 6343

اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول کو مشرکین کی تکذیب کے مقابلے میں تسلی دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں اس کے بارے میں مختلف بری باتیں کرتے ہیں جن سے وہ منزہ اور پاک ہے ایسی باتیں کہنا ہمیشہ سے ان مجرموں اور رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عادت رہی ہے اللہ نے کوئی ایسا رسول مبعوث نہیں فرمایا جس پر اس کی قوم نے جادوگر اور مجنون ہونے کا بہتان نہ لگایا ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوال جو ان کے اولین وآخرین سے صادر ہوئے ہیں کیا یہ ایسے اقوال نہیں جن کی انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت اور ایک دوسرے کو تلقین کی ہے؟ پس اس سبب سے ان کا ان اقوال پر اتفاق کرلینا کچھ بعید نہیں۔ {بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ } بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں ان کے دل اور اعمال کفر اور سرکشی کے سبب سے باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ پس ان کی سرکشی سے جنم لینے والے ان کے اقوال بھی باہم مشابہت رکھتے ہیں اور فی الواقع ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰـهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ } ( البقرة:2؍118) ''اور وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کہتے ہیں اللہ ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اسی طرح ان سے پہلے لوگ ان جیسی باتیں کیا کرتے تھے ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔،، اور اسی طرح اہل ایمان کے دل چونکہ اطاعت حق اور اس کی طلب اور کوشش میں باہم مشابہ ہیں اس لیے وہ اپنے رسولوں پر ایمان، ان کی تعظیم توقیر اور ان کے مرتبے کے لائق خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہونے میں جلدی کرتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت