{ وَنُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } یعنی ہم تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو اس پانی سے سیراب کرتے ہیں۔ کیا وہ ہستی، جس نے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں، ان کو متنوع امور پر مامور کیا، جس نے آسمان سے پاک اور بابرکت پانی برسایا، جس میں بندوں اور ان کے جانوروں کا رزق ہے، اس بات کی مستحق نہیں کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے؟