اس لئے فرمایا: {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا } یعنی پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر مامورات کی تعمیل کرتے اور محظورات سے اجتناب کرتے رہے ہوں گے۔ { وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ} " اور چھوڑ دیں گے ہم ظالموں کو۔" یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا {فِيهَا جِثِيًّا} " اس میں گھنٹوں کے بل گرے ہوئے۔" یہ سب عذاب ان کے ظلم اور کفر کے سبب سے ہوگا، جہنم میں ہمیشہ رہنا ان کا مقدر بن جائے گا، وہ عذاب کے مستحق ہوں گے اور نجات اسباب منقطع ہوجائیں گے۔