فهرس الكتاب

الصفحة 5301 من 6343

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خالص توبہ کا حکم دیا ہے اور اس پر ان کی برائیاں مٹا دینے، جنتوں میں داخل کرنے اور فوز وفلاح کا وعدہ کیا ہے۔ جب قیامت کے دن اہل ایمان اپنے نور ایمان کے ساتھ اور اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے ،اس کی خوشبو اور راحت سے متمتع ہورہے ہوں گے اور اس روشنی کے بجھ جانے پر ڈریں گے جو منافقین کو دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے اور وہ ان کے نور کو پورا کرے، اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائے گا ،ان کے پاس جو نور اور یقین ہوگا اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انہیں نعمتوں بھری جنتوں اور رب کریم کے جوار میں پہنچائے گا ۔یہ سب خالص توبہ کے آثار ہیں ۔خالص توبہ سے مراد وہ توبہ ہے جو ان تمام گناہوں کو شامل ہو جو بندے نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کیے ہیں ،اس توبہ سے اللہ کی رضا اور اس کے قرب کے سوا کچھ مقصود نہ ہو ،پھر بندہ تمام احوال میں اس توبہ پر قائم رہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت