فهرس الكتاب

الصفحة 6095 من 6343

اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے ،نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں ، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہوگی۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا ، (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ {فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗ} اس کا رزق تنگ کردے اور اس کارزق نپا تلا ہوجائے اور وافر نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کارد کرتے ہوئے فرمایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت