پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا: { إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ } " میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔" پس انہوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو اس کی ربوبیت کے توسل کو ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کردیا۔ یہ آیت کریمہ ضمنًا اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الہٰی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔