فهرس الكتاب

الصفحة 5184 من 6343

اللہ تبارک وتعالی نے اس خبر کے ساتھ اس سورۃ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد وثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کررہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور وہ اس کی عبادت کررہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے۔ کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کرسکتی ہے ۔وہ اپنی تخلیق اور امر میں حکمت رکھنے والا ہے ،وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ جب اہل کتاب میں سے بنو نضیر نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدعہدی کی تو اس نے ان کے مقابلے میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا، جن وہ محبت کرتے تھے ،ان کا اپنے گھروں اور وطن سے نکالا جانا اولین جلا وطنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں خیبر کی طرف مقدر ٹھہرائی۔

یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس جلاوطنی کے علاوہ بھی ان کو جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ وہ جلاوطنی ہے جو خیبر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں واقع ہوئی ،پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) بقیہ تمام یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت