فهرس الكتاب

الصفحة 5189 من 6343

یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال ومتاع منتقل ہوا، چنانچہ فرمایا: {وَمَآ اَفَاءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ} "اور جو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔" یعنی اس بستی کے لوگوں سے، اس سے مرادبنونضیر کے لوگ ہیں۔ {فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلَا رِکَابٍ} یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں، یعنی تمہیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمہارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان (یہودیوں ) کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمہارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔ اس لیے فرمایا: {وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّــطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَاءُ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ} "لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غلبہ دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔"اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت