فهرس الكتاب

الصفحة 189 من 6343

بسا اوقات وصیت کرنے والا اس وہم کی بنا پر وصیت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ کہیں پسماندگان وصیت کو تبدیل نہ کردیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { فَمَنْۢ بَدَّلَہٗ } " پس جو شخص اس (وصیت) کو بدل ڈالے۔" یعنی جو کوئی اس وصیت کو بدلتا ہے جو ان مذکور لوگوں یا دیگر لوگوں کے حق میں کی گئی ہے۔ {بَعْدَ مَا سَمِعَہٗ} " اس کو سننے کے بعد" یعنی اس وصیت کو سمجھ لینے اور اس کے طریقوں اور اس کے نفاذ کو اچھی طرح جان لینے کے بعد جو کوئی اس کو تبدیل کرتا ہے { فَاِنَّمَآ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَہٗ ۭ} " تو اس کا گناہ صرف انہی لوگوں پر ہے جو انہیں تبدیل کرتے ہیں۔" ورنہ وصیت کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کے اجر کا مستحق ہوگیا۔ {اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ} " بے شک اللہ سنتا ہے۔" یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے۔ اسی طرح وہ وصیت کرنے والے کی بات اور وصیت کو بھی سنتا ہے۔ پس وہ اس ہستی کا خوف کھاتے ہوئے جو اسے دیکھ اور سن رہی ہے اپنی وصیت میں ظلم اور زیادتی کا ارتکاب نہ کرے۔ { عَلِیْمٌ} ٌ وہ وصیت کرنے والے کی نیت کو جانتا ہے اور اس شخص کے عمل کو بھی جس کو یہ وصیت کی گئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت