فهرس الكتاب

الصفحة 4814 من 6343

اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں تاکہ ظالموں پر اللہ کی حجت قائم ہوجائے اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں، نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروانہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کردی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے اس لیے فرمایا { فَمَا أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ } یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف وکرم سے { بِكَاهِنٍ } ''کاہن'' جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کردیتا ہے۔ { وَلَا مَجْنُونٍ } ''اور نہ آپ فاتر العقل ہیں'' بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت