فهرس الكتاب

الصفحة 933 من 6343

ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کردیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لئے حلال اور عورتوں کے لئے حرام ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے: {مَا فِي بُطُونِ هَـٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا } " جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے" یعنی ان کے لئے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی۔ {وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا } " اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے۔" یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لئے حلال ہے۔ {سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ } " وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی" اس لئے کہ انہوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا {إِنَّهُ حَكِيمٌ } " بے شک وہ حکمت والا ہے۔" کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں {عَلِيمٌ } " جاننے والا ہے۔" یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت