فهرس الكتاب

الصفحة 3910 من 6343

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لئے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیم علیہ السلام کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آگیا۔ آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے {فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ } " تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔" صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:" حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے، ایک موقع پر فرمایا: {إِنِّي سَقِيمٌ } "میں بیمار ہوں" دوسرے موقع پر فرمایا: {قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَـٰذَا} " بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔" اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا:" یہ میری بہن ہے۔" [صحیح البخاری، احادیث الانبیاء، باب و اتخذ اللّٰہ ابراہیم خلیلا۔۔۔، ح: -3358و صحیح مسلم، الفضائل، باب فی فضائل ابراہیم خلیل عليه السلام، ح:2371]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت