یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا: {قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا} " رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔" پھر اس کا اندازہ مقرر کردیا، چنانچہ فرمایا: {نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ } نصف رات یا نصف میں سے بھی {قَلِيلًا} کچھ کم کردیجئے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو۔