پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی ، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی ،چنانچہ فرمایا: {اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ} " بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی اور ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔ " یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس جودوکرم کی طرف دیکھو ، انہوں نے اس کے اولیا اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلارہا ہے ۔ ظالموں کے لیے سزا کا ذکر کرنے کے بعد ، مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا ،چنانچہ فرمایا: {اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا} بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے { وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے { لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ ۀ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ} " ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ یہی بڑی کامیابی ہے ۔" جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم واکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔