فهرس الكتاب

الصفحة 1657 من 6343

بادشاہ نے ان عورتوں کو بلایا اور ان سے پوچھا {مَا خَطْبُكُنَّ } " تمہارا کیا معاملہ ہے؟" {إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ } ''جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا؟" کیا تم نے یوسف میں کوئی برائی دیکھی ؟ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام کی برأت کا اقرار کیا اور کہنے لگیں: {قُلْنَ حَاشَ لِلَّـهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ ۚ } " حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔" یعنی تھوڑا یا بہت ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔ تب وہ سبب زائل ہوگیا جس پر تہمت کا دار و مدار تھا۔ اب کوئی سبب باقی نہ بچا سوائے اس الزام کے جو عزیز مصر کی بیوی نے لگایا تھا۔ {قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ } " عزیز کی بیوی نے کہا، اب حق واضح ہوگیا ہے" یعنی حق واضح ہوگیا ہے جب کہ ہم نے یوسف کو برائی اور تہمت میں ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی جو اس کو محبوب کرنے کا باعث بنا۔ {أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ } " میں نے ہی اس کو اس کے جی سے پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ یقینًا سچا ہے" یعنی یوسف علیہ السلام اپنے اقوال اور اپنی برأت کے دعوے میں سچے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت