پس لوط علیہ السلام کو شدید قلق ہوا۔ { قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ } " انہوں نے کہا، کاش میرے پاس تمہارے مقابلے میٰں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا" مثلًا کوئی قبیلہ ہوتا جو تمہاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انہوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوط علیہ السلام سب سے زیادہ، مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔