فهرس الكتاب

الصفحة 4829 من 6343

اللہ تبارک وتعالی ان آیات میں فرماتا ہے کہ مشرکین جو واضح حق کو جھٹلاتے ہیں انہوں نے حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور باطل پر نہایت سختی سے جم گئے ہیں نیز بیان فرمایا کہ اگر حق کے اثبات کے لیے ہر قسم کی دلیل قائم کردی جائے تو پھر بھی وہ اس کی اتباع نہیں کریں گے بلہ اس کی مخالفت کرتے رہیں گے اور اس سے عناد رکھیں گے {وَاِنْ یَّرَوْا کِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِـطًا} یعنی اگر وہ بہت بڑی نشانیوں میں سے آسمان کاٹکڑا عذاب بن کر گرتا دیکھیں گے { یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْکُوْمٌ} تو کہیں گے یہ تو عام عادت کے مطابق گہرا بادل ہے یعنی وہ جن آیات الٰہی کا مشاہدہ کریں گے ان کی پروا کریں گے نہ ان سے عبرت حاصل کریں گے عذاب اور سخت سزا کے سوا ان لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔ اس لیے فرمایا: {فَذَرْہُمْ حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنَ} ''پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ دن جس میں وہ بے ہوش ہوجائیں گے سامنے آجائے۔'' اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس میں ان پر عذاب نازل ہوگا جس کی مقدار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کا وصف بیان کیا جاسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت