فهرس الكتاب

الصفحة 1966 من 6343

اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے، چنانچہ فرمایا: {لَا تَتَّخِذُوا إِلَـٰهَيْنِ اثْنَيْنِ} " نہ بناؤ تم معبود دو" یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ { إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ } " وہ صرف ایک ہی معبود ہے" وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور افعال میں ایک ہے، اسی طرح ان کو چاہئے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں۔ اسی لئے فرمایا: {فَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ } " پس مجھ ہی سے ڈرو" میرے حکم کی تعمیل اور میرے نواہی سے اجتناب کرو اور میرے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیونکہ تمام مخلوق تو اللہ تعالیٰ کی مملوک ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت