جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ " حمراء الاسد" پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا