فهرس الكتاب

الصفحة 4641 من 6343

پس اگر ان کے دلوں میں یہی بات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استغفار ان کے لئے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انہوں نے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں تو یہ مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لئے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں: {أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا} " کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔" یعنی ان کو قتل کرکے نیست و نابود کردیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہوگئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:

(1) وہ { قَوْمًا بُورًا} ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم کی بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لئے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت