فهرس الكتاب

الصفحة 3391 من 6343

یعنی جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اپنے رب کی طرف بلایا تو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی نہ آپ کی خیر خواہی کی اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی بعثت کی نعمت کی رؤیت کو اپنا راہنما ہی بنایا۔ ان کا جواب تو بدترین جواب تھا۔ { قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ} ''انہوں نے کہا اسے مارڈالو یا جلا دو۔" یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو۔ وہ قدرت رکھنے والے اصحاب اقتدار لوگ تھے چنانچہ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا { فَأَنجَاهُ اللّٰـهُ} پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا آگ سے { إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ} "بے شک اس میں ایمان دار لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔'' پس وہ اہل ایمان اور انبیاء ورسل کی تعلیمات کی صحت ان کی نیکی اور ان کی خیر خواہی اور انبیاء ورسل کے مخالفین و معارضین کے موقف کے بطلان کو خوب جانتے تھے۔ گویا رسولوں کے مخالفین ان کی تکذیب کی ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیا کرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت