فهرس الكتاب

الصفحة 141 من 6343

چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت، یعقوب پر ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: {اَمْ کُنْتُمْ شُہَدَاۗءَ} یعنی " کیا تم سب اس وقت موجود تھے" {اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ} " جب یعقوب علیہ السلام کو موت آئی" یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انہوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) علیہ السلام کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ {مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ} " میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟" پس یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے انہیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انہوں نے جواب دیا: { نَعْبُدُ اِلٰہَکَ وَاِلٰہَ اٰبَاۗیِٕکَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰــہًا وَّاحِدًا} پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے۔ {وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ} " اور ہم اسی کے مطیع اور فرماں بردار ہیں" پس انہوں نے توحید اور عمل کو جمع کردیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت