فهرس الكتاب

الصفحة 4130 من 6343

{ لِيُكَفِّرَ اللّٰـهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ} " تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انہوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔" انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل۔ دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔

یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب و عقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور نافرمانیاں اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہوجاتا ہے۔ فرمایا {لِيُكَفِّرَ اللّٰـهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا} یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ {وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ} یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ { إِنَّ اللّٰـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} (النساء:4؍40) " اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ اگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کردیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت